بھارت میں ایک جوان لڑکے نے والدین کے آئی فون کی قسط ادا نہ کرنے پر پہاڑی سے کود کر خودکشی کی اسکو بچاتے باپ گر گیا اور پھر انکے پیچھے ماں بھی کود گئ۔ اس پر میں نے بلاگ لکھنے کا سوچا مگر ویسا نہیں جیسا آپ توقع کررہے ہوں گے۔
واقعے کا پس منظر
سب کہہ رہے آجکل کے بچوں کی توقعات ترجیحات سب بہت غلط آئی فون کے پیچھے کون جان دیتا وغیرہ۔ جی نہیں۔
میں ایسا کچھ نہیں لکھنے والی
ہمیں ترجیحات کا تعین کرنے کیلئے کسی وقت ، ذمانے ، ذہنیت ہر چیز کو سامنے رکھنا ہوگا۔ آپکو عجیب لگا ہوگا لیکن جب یہ آئی فون وغیرہ نئے آئے تھے تب ایک کالج کے لڑکے نے خودکشی کر لی تھی کہ اسکے استاد نے فون رکھنے کے جرم میں فون توڑ دیا تھا جو نجانے اس نے کتنے ارمانوں کتنے جتنوں منتوں کے بعد اپنے والدین سے ضد کرکے خریدوایا ہوگا۔ مگر ٹھہریئے۔ میٹرک کےامتحان میں ناکام ہونے پر بھی تو خودکشی کر لیتے بچے۔ حالانکہ جیسے آئی فون دوبارہ لیا جا سکتا امتحان بھی دوبارہ دیا جاسکتا ہے۔ ہے نا؟
ترجیحات کا سفر
جب بچہ پیدا ہوتا ہے تو روتا پیدا ہوتا ہے اسکے لیئے دنیا ہی جہنم ہوتی ہے کیوں اسکو اسکے پرسکون ماحول سے نکالا گیا جہاں اسے بس آنکھیں موندے ماں کے پیٹ میں چین سے رہنا تھا۔ اس کے لیئے بھوک سب سے بڑی تکلیف تھی کہاں خود بخود پلاسنٹا خوراک دیتا تھا وہاں اسے جب تک روئے نہ کھانے کو نہیں ملتا تھا۔
کہاں گودوں کھلایا جاتا تھا کہاں پہلا قدم اٹھانا پڑا چلنا پڑا وقت کے ساتھ اس سے توقعات ترجیحات بدلنی پڑیں۔ وہی والدین جو آٹھ ماہ کے بچے کو خوشی خوشی گود میں اٹھاتے ہیں آٹھ سال کے بچے کو دوڑاتے کاموں کیلئے یہ لائو وہ لائو پانی لادوکھانا لادو۔
اب آپکے نزدیک یہ چھوٹے موٹے کام ہیں مگر دوڑ دوڑ کر کام کرنے والے بچے کے لیئے یہ تھکا دینے والے کام ہیں جو شائد آپ خود بھی کرلیتے۔ جس دن ہم اور ہمارے والدین کے بیچ یہ والا فاصلہ ختم ہوا کہ انہیں اجازت ہے وہ جو جیسے چاہے کہیں کریں ہم اچھے بچے تب ہیں جب تک مانتے رہیں چپ کرکے
بچے معمولی خواہشیں پوری کروانے کیلئے خودکشی کی دھمکی دیں گے کریں گے پڑھائی کی مشکل بتائیں گے نہیں پڑھائی سے ہی بھاگیں گے ۔ جب تک والدین سمجھیں گے کہ وہ بچوں کو ہر آرام دے کر اچھے والدین بن سکتے تب تک بچے ہڈ حرام ہو کر صرف فرمائش کریں گے۔
کیسے ایک اکیس بائیس سال کے نوجوان کو نہیں اندازہ کہ اسکے والدین اسے آئی فون نہیں دے سکتے؟ کیسے ایک اکیس بائیس سال کے جوان کو یہ سوچ نہ آئی کہ محنت مزدوری کرکے پیسے کمالوں خود خرید لوں آئی فون؟
کیسے والدین موت کے منہ میں کھڑی اولاد کو اس بات پر منا نہ سکے کہ اگر وہ باز آجائے تو اسکی خواہش پوری کردی جائے گی کیسے موت کے منہ میں جانا اسے اپنے والدین کی یقین دہانی پر اعتبار کرنے سے ذیادہ بہتر لگا۔۔
وجہ؟ وہی فاصلہ جو آپکے اور آپکے بچوں کے بیچ میں ہے۔
والدین اور اولاد کا فاصلہ
: نتیجہ اور سبق
وہی بات کرنے کا فاصلہ۔۔۔ بات کیجئے۔ بچوں کو سمجھیں۔ آپکے لیئے آئی فون ایک استعمال کی چیز ہے اس بچے کی اس جدید دور کی اہم ضرورت۔آپکے لیئے تعلیم جدید دور کی اہم ضرورت ہے آپکے بچے کیلئے کتابیں رٹنا ایک جان جوکھم کا کام ہے۔
آپ نے دنیا برت رکھئ ہے آپکی اولاد نے دنیا دیکھنی شروع کی ہے۔ اسکو ہر رخ دکھائیں اس کو بتائیں اس سے پوچھیں۔
زندگئ چیزیں لینے کا نام نہیں زندگی چیزیں برتنے کا نام ہے۔
ہے نا؟
