Skip to content
urdu blog, urdu blogging, urdu blogging course, urdu blogger theme free download, urdu blog adsense approval, urdu blogger, urdu blog writing, urdu blog earning, mrbeast urdu blog, alina urdu blog, elena urdu blog, bts urdu blog, safa urdu blog, urdu notebook blog, blogger from pakistan, blog pakistani, pakistani bloggers in turkey, pakistani news blogger, tayyab javed vlogs, blogging urdu, shifa daily vlogging, ramzan blogging, islamabad family vlog, bloggers in islamabad, istanbul pakistan vlog, blogger shaheen, blogger pakistan, blogging hisham sarwar, pakistani vlogger in istanbul, hooria vlog, does blogger pay you, blogger turkish, blogger kurdish, write blog on blogger, blog on pakistan, urdu vlogs germany, urdu vlog, blogger afridi, blogger masud, 100 blog posts, 300 uc, 7 series pakistan, 7 ka block, first income from blogging, 8 urdu
Menu
  • Contact Us
  • Privacy Policy
  • ہمارے بارے میں (About Us)
Menu

بنیادی عنوان: اپنی زندگی کے حالات کے ذمہ دار آپ خود ہیں: انتخاب کی طاقت

Posted on April 16, 2026April 16, 2026 by admin

کاش یہ باتیں جوانی میں پتہ ہوتیں! ایثار، انتخاب اور پچھتاوے کی کہانی

اپنے حالات کیلئے دنیا میں آپ جس کو ذمہ دار ٹھہرا سکتے ہیں وہ آپکی زندگی میں آپکی پسندآپکا انتخاب ہے۔ آپ نے کس وقت کیا اپنے لیئے پسند کیااور کیا منتخب۔ آپ اسی وجہ سے ان حالات میں ہیں۔

مثال کے طور پر وہ لڑکی جس نے کئی برس ایک بہترین مثالی محبوبہ بن کے دکھایا اور اس کے محبوب نے خاندانی دبائو کا نام لیکر کہیں اور شادی کر لی۔ ۔بنا کسی جائز رشتے اور کسی تعلق کے بنا محبوبہ بن کے دکھایا کیوں؟ نکاح اور نکاح کا اعلان کرنا اسی وجہ سے فرض ہے نا۔ اب سوچیں اگر یہی کام ایک جائز رشتے اور تعلق کے ساتھ کیا جاتا تو دنیا معتوب نہ ٹھہراتی اس انسان کیلئے آپ سے سب تعلق ختم کرنا اتنا آسان نہ ہوتا معاشرتئ مذہبی دبائو ادے آپ سے باندھ کر رکھتا۔ انتخاب اس شخص کے پیچھے زندگی کے قیمتی سال اچھے رشتے سب گنوادینا اب خالی ہاتھ رہ جانا۔اور مقدر کو الزام دینا۔۔

ایک لڑکے کی مثال لیجئے بچپن سے ماں باپ نے پڑھائی پر سختی کی اور پڑھائی میں ہی دل لگ کر نہ دیا۔ والد نے سائنس رکھوا دی اس وقت دبائو میں رکھ لی۔ پھر پڑھ کر نہ دیا۔ دل نہیں لگا مضامین میں۔ فیل ہوتے ہوتے آخر والدین نے ہار مان لی اپنی مرضی کے مضامین رکھے ان میں بھی کوئی خاص کارکردگی نہ دکھائی آخر عملی زندگی میں بنا اچھی ڈگری کے قدم رکھا۔ والدین کو الزام کہ انہوں نے پڑھائی سے متنفر کیا مگر جب آپکو موقع ملا آپ اپنی پسند سے انتخاب کر لیں تب کیا کیا؟ عملی زندگی میں ڈگری کے بنا بھی کامیاب ہوتے ہیں لوگ۔ انپڑھ لوگ بھی اچھا کماتے ہیں ہنر آپ نے کیوں نہ سیکھا؟ آپکا انتخاب تھا یہ۔

اس شوہر کی مثال لیجئے۔ ساری زندگی اپنے غصے اور مزاج کا ہوا بنا کے رکھا۔ بیوی کی کبھی نہ سنی بچے باپ سے ڈرتے رہے۔ بڑے ہوئے باپ سے دور ہوتے گئے۔ اب جب بڑھاپا طاری ہے نہ بیوی کے دل میں جگہ رہی ہے نا بچے دل کے قریب محسوس کرتے ہیں باپ کو۔ انتخاب؟ جوانی کی اکڑ۔۔ انجام بڑھاپے کی بے بسی۔۔

اس بیوی کی مثال لیجئے۔ ساری زندگی شوہر اور سسرال کی جوتیاں سیدھی کیں سب بد مزاجیاں برداشت کیں۔ غصہ دباتے اپنے اندر جمع کرتے سب کڑواہٹ اب اتنا مزاج ہوگیا ہے کہ کسی کی ایک بات برداشت نہیں اب اسی غصے کا شکار اپنی اولاد ہے۔ اندر کڑواہٹ ہی اتنی ہے۔ ساری زندگی غلط لوگوں کو سہتے برداشت ختم۔۔ اب بتائیں بھی کسی کو کہ اتنا سہا تو لوگ کہتے کیا سننا جانے دیں اب تو سب ٹھیک ہے۔ کیسے ٹھیک ہے؟ جوانی واپس آگئ؟ بدمزاج ساس زہریلا سسرال ماضی کھا گیا۔ حال خراب کر چکا ہے مستقبل میں اب رہا کیا ہے۔

انتخاب؟ پرانی باتیں یاد کر کرکے کڑھنا۔ کیا کیا جا سکتا؟ صبر۔۔ جو آج تک کیا۔۔ جبھی اب یہ سب کردار جو زہر گھولتے تھے زندگی سے نکلتے گئے۔

اپنی زندگی کی مثال لیں۔ کب کہاں کس کس چیز پر آپ نے خود پر قدغن لگائی کسی کے رویئے کا غلط ردعمل دیا کسہ کو سنا کسی کو بلا وجہ سنائی کسی کو ساری زندگئ اتنے مواقع دیئے کہ اب اس انسان کیلئے دل میں معمولی جگہ نہ رہی کوئی آپ پر رعب جماتا رہا زندگی کو کنٹرول کرتا رہا نظر انداز کرتے اب یہ حال ہے کہ اس انسان کی شکل دیکھنے کا دل نہیں مگر مجبوری۔۔

کسی کی بے دام غلام بن کے خدمت کی آج وہی آپکو پیسے کی کمی کا احساس دلاتایے اور اپنے آپ پر انحصار کرنے کا احسان جتانا ہے۔

دب غیر معمولی رویئے اختیاری ہی تو ہیں۔ کبھی سوچا آپ انسان ہیں غلطی آپ کی بھی ہوسکتی ہے، کبھی سوچا دوسرا انسان ہے وہ آپکے ساتھ آپ سے ذیاہد مخلص کیسے ہوسکتا؟ کبھی سوچا کہ آپ بے لوث محبت کیوں جتا رہے آپ خود بھی تو بے لوث محبت کے مستحق ہیں، کبھی سوچا زندگی میں ایثار قربانی محبت بانٹنا خیال رکھنا جیسے الفاظ آپ پر بھی تو لاگو ہوتے ہیں ہمیشہ دوسروں کا خیال آپکو اپنا خیال نہیں رکھنے دے رہا ۔کیوں؟

کبھئ سوچا کہ تھوڑا سا خود غرض ہونا آپکے ذہنی سکون کیلئے کتنا ضروری ہے۔

معاف کیجئے مگر وہی زیادتی اپنے ساتھ دوبارہ نہ ہونے دیجئے۔

خیال رکھیئے مگر انکا جو آپکا بھی جواب میں خیال رکھتے ہیں۔

کہہ دیجئے مگر دوسروں کی سننے کا حوصلہ بھئ رکھیئے۔

کیونکہ آپ اکیلے آئے تھے جائیں گے بھی اکیلے اور دنیا میں آپ بس آپ ہیں اور کوئی آپ جیسا ہوسکتا آپ پھر بھی ایک

اکلوتے ہی ہیں۔۔۔۔ تو ایسا کریں اب آپ سب سے پہلے اپنے بنیئے۔ دوسروں کا نمبر دوسرا ہی رہنے دیں۔۔

Sunny Sanskari Ki Tulsi Kumari Desi kimchi Review

تحریر کے اہم نکات:

  • ناجائز رشتوں کا بوجھ: مثالی محبوبہ بننے کی کوشش میں اپنی عزتِ نفس اور بہترین سال گنوانے والی لڑکی کا انتخاب ہی اسے آج خالی ہاتھ چھوڑ گیا ہے۔
  • تعلیمی اور عملی زندگی: والدین کے دباؤ کو جواز بنا کر ہنر نہ سیکھنا اور پھر ناکامی کا ملبہ دوسروں پر ڈالنا بھی ایک انتخاب ہے۔
    • خاندانی رویے اور بڑھاپا: جوانی کی اکڑ اور غصہ جب بڑھاپے کی تنہائی بنتا ہے، تو یہ کسی اور کی نہیں بلکہ آپ کی اپنی بوئی ہوئی فصل ہے۔
  • ایثار کی حد: دوسروں کی خاطر خود کو مٹا دینے والی بیوی جب کڑواہٹ سے بھر جاتی ہے، تو اسے سمجھنا چاہیے کہ “حد سے زیادہ سہنا” بھی اس کا اپنا فیصلہ تھا۔

حاصلِ کلام: آپ دنیا میں اکیلے آئے تھے اور اکیلے ہی جائیں گے۔ دوسروں کا خیال رکھنا اچھی بات ہے، لیکن خود کو نظر انداز کرنا اپنے ساتھ سب سے بڑی زیادتی ہے۔ تھوڑا سا خود غرض ہونا آپ کے ذہنی سکون کے لیے ناگزیر ہے۔

سب سے پہلے اپنے بنیے، دوسروں کا نمبر دوسرا ہی رہنے دیں۔

“کیا آپ کو لگتا ہے کہ آپ کا کوئی ایک غلط انتخاب آج آپ کے حالات کی وجہ ہے؟ تبصروں میں بتائیں۔

#desikimchiblogs

#desikimchi

#urduz

Leave a Reply Cancel reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Surprise short urdu horror story|کہانی: “تین بہن بھائیوں کا سرپرائز”
Dead talent society | UNIQUE HORROR COMEDY| MUST WATCH
©2026 urduz web blog | Design: Newspaperly WordPress Theme