دی ایسٹ پیلس ڈرامہ دیکھ کر مجھے اتنا اچھا بزنس آئیڈیا آیا کہ سوچ رہی کیا اتنے عرصے سے اس پیج پر وقت ضائع کررہی ہوں۔ میں تو آستانہ کھول سکتی ہوں۔ کانٹنٹ مانیٹائزیشن جائے بھاڑ میں نزرانہ وصولوں گی کروڑ پتی بنوں گی لیموزین خریدوں گی۔ مجھے شف شف کرنے کی بھی ضرورت نہیں۔
اب پوچھو گے ایسٹ پیلس تو ڈرائونا ڈرامہ اس میں سے بزنس آئیڈیا کیسے نکالا ؟
تو جناب ہیرو صاحب جب بھی بھوتوں سے لڑنے جاتے انکو آڑو کی سوکھی لکڑی چاہیئے ہوتی تھی ۔ اس سے جنوں کی خوب پٹائی ہوتی ہے۔ مجھے پتہ ہوتا تو میں جو گھر میں ایک عدد خوب گھنا آڑو کا درخت رکھتئ ہوں جس کا پھل بڑھتا نہیں البتہ شاخیں سامنے والے گھر کے ٹیرس کو چومنے کو بے تاب نکلی پڑی ہیں پچھلے سال مالی سے کہہ کر اسکی اگلی شاخوں کی اس بے راہ روی پر انکو کاٹ دیا تھا اس سال مالی کو فارغ کردیا غلط مت سمجھو اسےکاٹا نہیں چھٹیاں کرتا تھا تو نکال دیا تو اب پھر بے قابو ہے یہ درخت ۔بڑھتا جا رہا ہے تو اسکی لکڑیاں کاٹ کر پچھلے سال کی طرح پھنکوانے کی بجائے انکو ہزار روپے فی شاخ کے حساب سے بیچوں گی جس جس کی امی مامی خالہ پھپھو یا انکی بیٹیوں میں سے کوئی نہا کر بال سکھانے چھت پر مغرب کے وقت گئ ہو اور اس پرپر جن عاشق ہو چکا ہو یا تم تمہارے ماموں چاچا خالو پھپھا یا ابا جلدی میں کسی ایسی ویسی جگہ رفع حاجت کرکے جنات کی لپیٹ میں آگیا ہو تو مجھ سے رابطہ کرکے مجھ سے یہ لکڑی لے جائے اور اس سے انکو مارے جن بھاگ جائیں گے۔ اگر جن نہ ہوئے تو مار کھانے والا تو کم ازکم ضرور ہی بھاگے گا۔آزمودہ نسخہ ہے بنا کسی پڑھائی چلوں کے جن بھوت سے نجات ہوجائے گی میرا بھی بھلا ہوجائے گا کہ اتنی محنت سے پیج چلانے کی بجائے عامل دیسی کمچی کورین جادو کی ماہرہ کے نام سے نیا پیج بنا کر کروڑ پتی بن جائوں گی۔
بس ایک قباحت ہے میں یہ سوچ رہی ہوں اگر آڑو کی لکڑی سے جنات بھاگتے تو ہمارے گھر میں انکا پورا قصبہ کیوں آباد؟ بھاگے کیوں نہیں یہ اب تک؟
