ڈیجیٹل بی پی مشین بمقابلہ مینوئل بی پی اپریٹس (Manual BP Apparatus)
کیا آپ کو فشار خون یعنی بلڈ پریشر چیک کرنا آتا ہے؟
مجھے نہیں آتا تھا مگر جب سے والد کا بلد پریشر شوٹ ہونا شروع ہوا وہ ڈیجیٹل بی پی اپریٹس لے آئے مگر وہ چین کا تھا کہ کیا کچھ عرصے بعد اسے خود بخود بازو جکڑنے کی بیماری لگ گئ۔ سچ میں ایسا زور سے جکڑتا کہ لگتا سانپ بازو کے گرد لپٹتا جا رہا ہے۔
دو ایک بار مما بی پی چیک کراتے کراہ اٹھیں ( جی ہم خالصتا دیسی خاندان ہیں ایک کا بلڈ پریشر چیک کرنے بیٹھتے شوق شوق میں پورا گھر چیک کروالیتا) بھائی نے کروایا اسے بھی خوب درد ہوا جب سب کو درد ہونا شروع ہوا تب ہمیں پتہ لگا کہ بیماری ہم میں نہیں اس مشین میں ہی ہے۔
مینوئل بی پی چیک کرنے کی “سائنس”:
خیر پھر ہم آئے پرانے سادہ بی پی چیک کرنے والی مشین پر۔ اب اسکی اتنی گہری سائنس تھی کہ نظر جما کر رکھو پمپ دبا دبا کر بازو کی ہوا نکالو جب مریض تڑپ کر گھورے وہیں رک کر آہستہ آہستہ اسکا دبائو کا بٹن گھما کر چھوڑو۔ دل کی دھڑکن سننے والا آلا بازو پر رکھو۔ ایک مخصوص جگہ رگ پھڑکے گی تو جہاں سوئی ہو وہاں کا ہندسہ پڑھ پھر دوبارہ جہاں مدھم ہوگی وہاں کا پڑھو۔ پہلے والا کتنا ہائی ہے بتائے گا دوسرا نیچے والا ہوتا ۔اسکا کام کیا ہوتا ڈاکٹر جانے ۔ اب یہ نیا نیا سیکھا تو میرے تو کان پر پھڑکے ہی جائے۔ اچھا بھلا فیملی میمبر بیٹھا ہوتا سامنے اور اسکا بی پی ڈھائئ سو تین سو پہنچا ہوتا۔ تب جس سے سیکھا انہوں نے ہی بتایا کہ سوئی بھی ٹکتی ہے لمحہ بھر سہی مگر ضرور ( یہ آنٹی تھیں میاں ڈاکٹر تھے انکے مگر اتنی پیشہ ور تھیں کہ سکھانے کے دو سو لیئے)
ایک دلچسپ واقعہ:
خیر اب میں اپنی چھوٹی بہن کو لیکر بیٹھا کرتی مشین پر وہ نگاہ رکھتی کہاں ٹھٹھری سوئئ باقی دبائو کا بٹن گھمانا اور ظاہری طور پر کانوں سے آلہ لگا کر رکھنا میرا کام ہوگا تھا۔ مگر بہن سے بندے کی کتنی نبھ سکتی لڑائی ہوگئ تو اس سے کہنے کی بجائے اب خود دیکھتی ہوں۔تین سے چار مرتبہ میں صحیح ریڈنگ کر لیتئ ہوں۔
غلط فہمی، خوف اور ایک تلخ تجربہ
ایک بار ایک آنٹی آئیں انکا ہائئ بی پی کا ہی علاج چل رہا تھا مما نے کہہ دیا میری بیٹی کو آتا بی پی چیک کرنا۔جھٹ راضی ہوگئیں بئ پی چیک کروانے حالانکہ خود بتا رہی تھیں کہ ڈاکٹر کے پاس سے ہی ہو کر آرہی تھیں۔ اب میں سٹپٹائئ بہن کوساتھ لیکرچیک کرنا اول الذکر وجہ کی بنا پر ممکن نہ تھا سو خود چیک کرنے بیٹھی۔ دو مرتبہ میں ہی آنٹی چیں بہ چیں ہوگئیں ۔ مگر اس وقت میرے ناقص تجر بے کے مطابق انکا بی پی بس گزارے لائق تھا دوا انہوں نے گھر جاتے ہی کھانی تھی۔ شکر کا کلمہ پڑھ کر میں نے جان چھڑائی۔ اگلے دن خبر آئی ان آنٹی کا انتقال ہوگیا۔
اتنا صدمہ رہا کہ کچھ عرصہ بی پی چیک کرنے سے انکاری رہی اور بطور ثبوت انہی آنٹی کی مثال دی کہ مجھ سے بی پی چیک کروانا موت کو دعوت دینا ہے۔ مگر بکرے کی ماں کب تک خیر منائے گئ۔ گھر میں آج تک مینوئل سے صرف مجھے ہی بی پی چیک کرنا آتاہے۔ سوئئ پھڑکنے کا منظر بھی خود دیکھتی ہوں اور کم وبیش صحیح بتا دیتی اب اس دن مما کا دو سو تک پہنچا تھا دو تین مرتبہ اتنا ہی رہا انہیں نہیں بتایا دوا دی دس پندرہ منٹ بعد چیک کیا توڈیڑھ سو تک آیا۔ چونکہ ریڈنگ بدلی سو پہلی ریڈنگ یقینا ٹھیک ہی ہوگی ہے نا۔
ہر گھر میں کون سے طبی آلات (Medical Equipment) ہونے چاہئیں؟
اگر آپ کی عمر کم ہے اور والدین بوڑھے ہو رہے ہیں، تو برے وقت سے بچنے کے لیے گھر میں درج ذیل بنیادی آلات کا ہونا انتہائی ضروری ہے:
مستند برانڈ کا ڈیجیٹل بی پی اپریٹس (Digital BP Apparatus): اگر مینوئل استعمال کرنا مشکل لگے، تو کسی اچھے اور مستند برانڈ کا ڈیجیٹل مانیٹر خریدیں۔
شوگر چیک کرنے والی مشین (Glucometer): شوگر کا اچانک کم یا زیادہ ہونا خطرناک ہو سکتا ہے۔
نیبولائزر (Nebulizer): سانس کی تکلیف یا شدید کھانسی کی صورت میں فوراً آرام کے لیے۔
پلس آکسی میٹر (Pulse Oximeter): آکسیجن لیول اور دل کی دھڑکن ماپنے کے لیے۔
سو اگر آپ جوان ہیں تو یقینا آپکے والدین اب جوان نہیں رہےبری گھڑی سے بچیں اور بی پی اپریٹس ، شوگر چیک مشین، نیبولائزر وغیرہ ضرور گھر میں رکھیں۔ یا تو میری طرح کنفیوز رہیں مینوئل سے چیک کرتے یا پھر یہ خرید لیں ایک مستند کمپنی کا ہے ڈیجیٹل ہے ۔ سو ریڈنگ کا مسلئہ ہی نہیں۔
احتیاطی تدابیر کرکے رکھیں کیونکہ برے وقت کا کوئی پتہ نہیں۔بی پی ہائی ہے یا لو یہ پتہ ہو تو کم از کم گوگل کرکے یا چیٹ جی پی ٹی سے آسانی سے ٹپ لی جاسکتی فوری بی پی کم کرنے کی۔
اللہ ہم سب کے والدین کو لمبی زندگی دے آمین۔
