پچھلی پوسٹ پر کچھ خواتین نے جھائیوں کا ذکر کیا تھا ۔جھائیاں عموما خشک جلد پر ہی پڑتی ہیں۔
انکا علاج تھوڑا تکلیف دہ ہے لیکن ہے۔
سب سے پہلے میرا مشورہ ہر قسم کی کریم اپنی سنگھار میز سے اٹھا کر ایسی جگہ رکھ دیں جہاں آپکی رسائی نہ ہو۔
شاباش
اب سب سے پہلے قبض ختم کریں۔ پانی پیئیں کم از کم چھے گلاس روزانہ سردیوں میں۔ صبح نہار منہ ایک کپ پانی نیم گرم پیئیں۔ دوپہر میں اسپغول ایک گلاس پانی میں میں ایک ساشے بھگو کر کم از کم آدھا گھنٹہ بھگونے کے بعد پیئیں۔ اس سے قبض کا مسلئہ حل ہوگا۔
ہری سبزیاں ذیادہ کھائیں۔ ساگ کھیرا ککڑی وغیرہ۔ موسم کے پھل ضرور کھائیں۔
اب باری آتی ہے لگانے کی۔ چہرے کو چکنا رکھیں۔ نماز وغیرہ کیلئے منہ دھونے کے فورا بعد چہرے پر عرق گلاب کا اسپرے کریں پھر گلیسرین یا کوئی آئل لگائیں۔ ایک ہوتا ہے روز ہپ آئل ۔ یاد رہے روز آئل الگ چیز ہے روز ہپ آئل الگ۔ میں کمنٹس میں لنک دے دوں گی۔ سستا سا ہوتا ہے ہاں شدید چکنا ہے۔ مگر آپکی جلد کو اسکی شدید ترین ضرورت ہے۔ جھائیوں پر ہلکے ہاتھ سے اسکو لیپ کریں۔ اگر چکنائی بری لگے تو ہلکا تھپتھپا کر اضافی چکنائی ٹشو سے اتار لیں لیکن جتنی کم چکنائی اتنی سست رفتاری سے علاج ہوگا۔
اسکے علاوہ اگر تھوڑا ذیادہ خرچ کرنا چاہیں تو ایک ہوتا ہے
seabuckthorn oil
یہ چار ساڑھے چار ہزار کا ملے گاچلتن پیور نامی برانڈ کا اسکو آپ انکی آنلائن شاپ سے منگوا سکتی ہیں۔
یہ دو سے تین قطرے لگیں گے چہرے پر اس سے چہرہ خشک ہو سکتا ہے سو صرف جھائیوں پر لگائیں۔ اگر کھجلی وغیرہ محسوس ہو تو فکر نہ کریں ۔ جب تک کوئی بڑا الرجی ری ایکشن نہ ہو اسکا استعمال نہ چھوڑیں۔ یہ سب چھے سے آٹھ مہینوں میں اثر دکھائے گا۔
ساتھ ساتھ استعمال کریں
primerose oil
کی گولیاں۔ نیوٹری فیکٹر ایک برانڈ ہے سپلیمنٹ مگر اسکی گولیاں بہت ہی مہنگی ہیں۔ شائگان برانڈ کی سستی ہے میں اسکا بھی کمنٹ میں لنک دے دوں گی۔ یہ گولیاں سب کھا سکتے ہیں اس سے جلد کے اندر سے نمی پیدا ہونا شروع ہوگی۔ یہ گولیاں ایک ہفتے کھائیں آپکو اپنی جلد میں اندر سے چمک محسوس ہوگی۔
اب آتا ہے تکلیف دہ حل۔
یہ جھائیوں پر فوری اثر ڈالتا ہے اتنا فوری کہ حیران ہو جائیں گی آپ۔
یہ ہے سوئیاں چبھونا۔ جی صحیح سنا۔
ڈرما رولر بازار میں عام ملتے ہیں اب ڈرما پین بھی ملتا ہے۔ اسکو استعمال سے پہلے ڈیٹول ملے پانی میں ڈبو لیں۔
اب چہرے پر گلیسرین ، آئل جو پسند ہو اسے لگائیں اور اسکو جہاں داغ دھبے ہیں یا گڑھے بن گئے ہیں ان پر پھیریں۔
اتنا دبائو رکھیں کہ برداشت کر سکیں۔ پھیرنے کا طریقہ انکے ڈبوں پر لکھا ہوگا نہیں تو ناک سے کان کے درمیان پھر آنکھ سے چہرے تک۔ یہ پھیرنے کا طریقہ بتا رہی ہوں آنکھ کے گرد بالکل مت پھیرنا ۔ یاد رہے یہ بات۔
تین سے پانچ مرتبہ پھیرو اور جلد کو سکون کرنے دو۔ منہ سوجا سوجا محسوس ہوگا ۔ یہ کام کرنے کے بعد چولہے کے پاس مت جانا گھر سے باہر مت جانا۔ سونا بھی نہیں کہ تکیئے وغیرہ سے جراثیم لے لو۔ ایک دو گھنٹے بعد منہ دھو لینا۔ یہ کام دس دن میں ایک بار کرنا ہے۔ اب اگر ڈرما رولر وغیرہ لینا مشکل لگے تو جو شوگر چیک کرنے کیلئے سوئیاں ہوتی ہیں وہ بھی استعمال کر سکتی ہو انکو ڈیٹول میں بھگونے کی ضرورت نہیں۔ سوئی ایک بار استعمال کے بعد پھینک دینا۔ سوئی خود کو چبھونی ہے تو جہاں گڑھے یا کالے جھائیوں کے نشان ہیں وہاں ہلکے ہاتھ سےسوئی چبھونی ہے ۔ہلکا پھلکا خون نکل آئے نارمل ہے۔ مگر جلد کو نقصان نہ پہنچالینا۔ اسلیئے ڈرما رولر لینا ہی بہتر ہے اسے دبا دبا کر بھی پھیرو گی تو سوئی ذیادہ اندر تک نہیں جاسکے گی ۔
انتباہ: دانوں پر سوئیاں نہ مارنا پلیز۔ دانوں کا علیحدہ علاج ہے اس پر بھی لکھ دوں گی بلاگ۔
بہنوں یہ سب وہ کام ہیں جو میں نے خود کیئے ہیں اور فائدہ اٹھایا ہے مجھے پی سی او ایس کی وجہ سے شدید ایکنی رہی ہے۔ پھر ایک دو ایکنی اسکار ایسے رہے کہ حشر ہوگیا تھا جلد کا۔
میں نے پچھلی پوسٹ میں احوال لکھا تھا جس کو سیرم وغیرہ استعمال کرنے ہوں اسکے لیئے وہ پوسٹ بھی کمنٹ میں منسلک کردوں گی۔
اس سب کیلئے
Retinol
اور
tretinoin
بہترین سمجھا جاتا ہے مگر ان دونوں کے مستقل استعمال سے جلد کا حفاظتی بیرئر ختم ہوجاتا ہے۔ میں خود اب ریٹینول سیرم بہت کم استعمال کرتی ہوں جیسے کئی کئ دنوں کے بعد۔ لہذا آپ سب بھی اگر یہ سیرم استعمال کریں تو کچھ عرصے بعد چھوڑدیں۔ مجھے تو سچی بات ہے بہت ڈر لگتا ہے اتنے کیمیکلز منہ پر لگا کرکھانے میں جا کر ہمارے جسم کا حصہ بنتے ہیں تبھئ تو آجکل کینسر اتنا عام ہوا وا ہے سو بہتر ہے سب سے دور رہا جائے وہ چیزیں استعمال کریں جس میں کیمیکل نہ ہوں یا کم ہوں۔ سب سے اچھے تیل ہیں۔ ناریل کا تیل منہ پر لگائیں سردی بھر ناریل کی گری کھائیں، مونگ پھلی ایک مٹھی کھائیں۔ سب سے اچھا تو یہ کہ ڈرائئ فروٹس کھائیں بادام کاجو پستہ اخروٹ سب ملا کر ایک مٹھی بننا چاہیئے خود محسوس کریں گی کہ سردی بھئ کم لگتی ہے اور جلد بھی اچھی ہوگئی ہے۔
دعائوں میں یاد رکھیئے گا۔
