عمیرہ احمد کے نئے سیریل آپکی عزت پر ٹوئٹر اور فیس بک پر پوسٹ وائرل ہے کہ انہوں نے ایسے جملے لکھے جو بے ادبی میں شمار ہوتے ہیں ۔۔جیسے
ناز: اف آنٹی اتنا شوق تھا آپ سے ملنے کا تابش صاحب تو کلمہ پڑھتے ہیں آپکا ہمیں تو لگتا ہے انکے ہاتھ میں تسبیح ہو تو اس پر بھی آپکا نام پڑھیں۔۔
ہمارے یہاں تو مذہب کے نام پر انتہا پسندی ہے اس پر حقیقتا پٹائی بنتی ہے۔کیا سوچ کر یہ پوسٹ لکھ ڈالی ؟ بنا تحقیق؟ یہ اعتراض عمیرہ احمد پر ہے کہ شرکیہ کلمات ادا کیئے انکے کردار نے ۔۔
حالانکہ یہ بہت عام سے محاورتا کہے جانے والے جملے ہیں اردو کہ فلانا تو اتنا اس سے متاثر ہے کہ صبح شام اسکے نام کی تسبیح پڑھتا ہے۔ اردو میں تسبیح ہم اس مالا کو کہتے ہیں جس میں دانے جڑے ہوتے ہیں اور اس پر آپ اذکار کرتے ہیں۔
تسبیح کسی چیز کو متواتر ذکر کرنے کو بھی کہتے ہیں ۔ قرآن میں یہ انہی معنوں میں استعمال ہوا ہے۔
اب یہ ہیں عربی کے لفظ اگر اس طرح قرآن میں استعمال ہونے والے لفظوں کو عام زندگئ میں استعمال کرو اور اس سے نعوذ بااللہ بے ادبی ہوتی ہے تو ان جاہلوں سے گزارش ہے کہ پھر پورا سعودیہ عرب بلکہ تمام عرب ممالک جو عربی کو عام بول چال میں استعمال کرتے ہیں سب کے سب مستقل گناہگار ہیں کیونکہ حبیبتی کا مطلب ہوتا ہے دوست اور قرآن نے اللہ کو رسول خدا ص کیلئے حبب استعمال کیا ہے کہ اللہ حبیب رکھتا ہے رسول ص کو آگے اس انسان کو بھی اللہ دوست رکھتا جو نیک اعمال کرتا ہے ۔ اب حبب یا حبیب اگر آپ اپنے کسی دوست کو کہہ دیں گے تو کیا نعوذ بااللہ گستاخی ہوگئ۔
اسی طرح کیا قرآن میں خنزیز کا ذکر ہوتا ہے تو پھر خنزیر کو کیوں برا بھلا کہتے؟ خنزیر لفظ کا بھی احترام کرو۔
ایمان الگ چیز ہے زبان الگ چیز۔ خدارا ان خرافات سے کسی کی زندگی مشکل مت کریں کوئی سرپھرا مولوی ویوز کے چکر میں اس ڈرامے یا عمیرہ احمد پر فتوی نکال بیٹھا پھر؟
خدارا ان جاہل ملائوں سے دین سیکھنا بند کریں جن کو حلوہ کسی کے لباس پر لکھا نظر آئے تو اسے قرآنی خطاطی سے مشابہہ قرار دے کر خاتون پر قتل کا فتوی دے ڈالتے ہیں۔ اس ذہن کے لوگ جس معاشرے میں ہوں وہاں ایسا نان ایشو بنانا چاہیئے؟
کن فیکون گانا پہلے اسی وجہ سے بین کردیا گیا تھا۔ کن فیکون کا مطلب ہے کہیں ہوجا۔ اور ہوجاتا ہے۔ یہ صفت اللہ کی ہے۔ آپ سارا دن کہیں تو بھئ اللہ اگر نہ چاہے تو نہیں ہوگا۔یہ ہے ہمارا عقیدہ اور یہ اتنا کمزور نہیں ہے۔
اصل پوسٹ کی اسکرین شاٹ کمنٹس میں ہے۔ میں اس جو بھی انسان ہے جس نے یہ لکھا اسے ریچ نہیں دینا چاہتئ آجکل ریچ کے پیچھے سب کچھ بھی لکھ ڈالنے کو تیار ہیں اور مجھے اس معاشرے میں رہتے خوف آتا ہے کہ کسی کی زندگی مشکل نہ ہوجائے۔
کانٹنٹ مانیٹائزیشن نے فیس بک
اور بلو ٹک نے ٹوئٹر کی میری فیڈ برباد کردی ہے وہ کچھ دیکھنے پڑھنے کو مل رہا ہے کہ دماغ جھنجھنا گیا ہے حد ہی ہے ویسے۔
ایک یہ لوگ ہیں کچھ بھی لکھ کر کما رہے ایک میں ہوں پہلے تحقیق اسکے بعد ردعمل سب سوچ کر لکھنے بیٹھتی ہوں دماغ سے انگلیاں چلنے تک کئی بار لکھا سنسر ہوتا پھر بھی کوئی عقلمند میرے جملے پکڑتا کہ پچھلی پوسٹ میں لکھ دیا کہ قرآن میں اللہ نے کئی بار رسول خدا ص کو حبیب یعنی دوست کہا ہے تو کیا عام زندگی میں ہم دوست کا لفظ استعمال کریں گے تو کیا بے ادبی ہوجائے گی حبیب چونکہ عربی لفظ ہے تو بجائے جملے پر غور کرنے کہ غلطی یہ نکالی کہ قرآن میں حبیب لفظ نہیں، ہے یا نہیں یا حبیب کے مصدر مشتق نکال کر دکھائوں؟ انہوں نے تو اسلام 360 کھولا لفظ لکھا اور نہیں ملا تو فتوی داغ دیا کہ ہے ہی نہیں۔
بہن اسلام 360 ایپ ہے۔ اور چونکہ مستقل قرآن پڑھنے کی عادت ہے تو اکثرایسا ہوا ہے کہ کہیں کسی جگہ ریفرنس دینے کیلئے سورہ یا آیت ڈھونڈی تو سرچ میں ملی ہی نہیں جیسے وہ ہے ہی نہیں۔ مگر درحقیقت بعد میں پڑھتے ہوئے آرام سے مل گئ۔ رہی بات میں نے جملے میں اب حبب لکھ دیا ہے یہ سرچ میں آرام سے مل جاتا ہے۔ جسکے معنی حبیب و دوست کے ہی ہیں۔
میں نے قرآن کے بارے میں کہا کہ قرآن ایسا کہتا ہے۔ یہی کہتا ہے آپ نے اسکا مطلب نکالا۔
عربی ایک زبان ہے۔ اس زبان میں قرآن ہے۔ قرآن کتاب ہدایت ہے۔ اسکی اگر طرح بات بات پر بے ادبی ہوگی تو آپ اسکو لپیٹ کر رکھ دیں گے نہ پڑھیں گے نہ سیکھیں گے کیونکہ ہم سب اسی خوف سے یہی کررہے کہ وضو نہیں کیا قرآن چھو نہیں سکتے۔ او بھئی پاک ہو کہ نہیں؟ ناپاک نہیں تو نماز کے سوا ہر عبادت کرسکتے ہو دعا تو خیر ناپاکی میں بھی کرسکتے ہو نماز کیلئے شرط ہے وضو اور کسی چیز کیلئے نہیں۔ اسلام کو خود سمجھو اللہ عمل کی بنیاد پر نہیں نیت کی بنیاد پر آپکا امتحان لے گا۔
تسبیح ، لفظ اتنا متبرک بنا دیا ہے کہ اسکو عام بول چال میں استعمال نہیں کرسکتے۔ عربوں کو تو ایسے دورے نہیں پڑتے کہ سب کی زبان پکڑیں کفر کے فتوے دیں یا گستاخی کے ۔ ہم جن پر جن کی زبان میں دین نازل ہوا ان سے ذیادہ جاننے کا دعوی کررہے واہ
قرآن کے الفاظ ہدایت کے لیئے ہیں جو عربی میں ہیں۔ اور عربی قرآن نہیں زبان ہے ۔ ان کا فرق سمجھ کر جئیں اور جینے دیں۔
