میں نے پہلے بھی اسکن کیئر کے بارے میں پوسٹ لگائی تھی اور ان چیزوں کے بارے میں بتایا تھا جو میں استعمال کرتی ہوں۔ لیکن ایک بات یاد دہانی کیلئے بتا دوں۔
کوئی بھی سیرم
کوئی بھی کریم
کوئی بھی مطلب کوئی بھی۔۔
مستقل استعمال * نہیں* کریں ۔
جی بالکل صحیح پڑھا ہے آپ نے۔ کوئی بھی کیمیکل بیس کریم سیرم آپکو دو سے تین مہینے بعد بدل لینا ہے بس۔ یہ اپنے اوپر رحم کرنا ہے آپ نے۔
. جھائیاں اور ایکنی: کیمیکلز نہیں، غذائیت کی کمی ہے
چہرے پر داغ دھبے جھائیاں ہیں یقین جانیئے مہنگی سے مہنگی کریم دور نہیں کر سکتی۔ جب تک آپکی صحت ٹھیک نہ ہو۔ جھائیاں عموما وٹامن اور آئرن کی کمی سے پیدا ہوتی ہیں۔
غذا سے لاپرواہی
آپ اپنا حال دیکھیں وزن نہ بڑھ جائے کے چکر میں سب کھانا چھوڑ رکھا۔ کلیجی سے بو آتی ہے اسلیے نہیں کھاتیں بڑا گوشت نہیں کھاتیں پھر آپ کی صحت خراب نہیں ہوگی تو کیا ہوگا۔
PCOS اور ہارمونل عدم توازن
آدھی سے زیادہ لڑکیوں کو پی سی او ایس ہے یا پیریڈز ہی نارمل نہیں۔ بس کریمیں چہرے پر تھوپی جا رہی ہیں جن میں اسٹیرائڈز بھی ہیں اور ایسے کیمیکلز بھی جو دیرپا جلد کو ناصرف خراب کرتے ہیں بلکہ کینسر کا سبب بھی بنتے ہیں۔
سو بہنوں اگر چار پیسے خود پر لگانے ہیں نا تو چہرے پر نہ لگائو پھل کھا لو سبزیاں گوشت کھا لو یہ سب نہیں کھانا تو ہمت کرکے ڈاکٹر کے پاس جائو کوئی اچھا سپلیمنٹ کھا کر صحت بحال کرو۔
ٹین ایج (Teenage) میں میک اپ اور دانے: کیا یہ نارمل ہے؟
دیکھ دیکھ کر ہول اٹھتا آجکل کی بچیوں کو ابھی ٹین ایج بھی نہیں اور پورا میک اپ کرنا آتا۔ میک اپ کے کبھی اجزا ء دیکھے ہیں؟ درجنوں کیمکلز تھوپنے ہیں چہرے پر اس عمر میں جب آپ قدرتی طور پر ہارمونل تبدیلیوں سے گزر رہی ہیں یہی ہارمونل عدم توازن کی بنیاد ہے۔ ٹین ایج میں دانے بھی نکلیں گے اور داغ دھبے بھی پڑیں گے۔ اسکو جلد خراب ہونا نہیں کہتے خراب جلد وہ ہے جس کو ان سب تبدییلیوں کا اثر ہی کوئی نہیں یا تبدیلی ہی نہیں آرہی۔ دونوں صورتوں میں نقصان ہے۔
قدرتی تبدیلی: اس عمر میں جسم قدرتی طور پر ہارمونل تبدیلیوں سے گزر رہا ہوتا ہے۔ اس دوران چہرے پر دانے يا داغ نکلنا ایک قدرتی عمل ہے۔
نقصان: اتنی نازک عمر میں میک اپ کی تہہ چڑھانے سے ہارمونل عدم توازن مزید بڑھ جاتا ہے اور مسام بلاوجہ بند ہو جاتے ہیں۔
. چہرے پر “بیس”
(Foundation/Base) لگانے کی اصل تاریخ
اب ذرا بیس جسے سب تبرک سمجھ کر تھوپتی ہیں چہرے پر اسکی وجہ تلاش کرتے ہیں۔
سرد ممالک میں جہاں دھوپ تبرک کی طرح نصیب ہوتی تھی وہاں لوگوں کی عادت تھی جس دن دھوپ نکلے سب کام چھوڑ کر دھوپ سینکنے بیٹھ جائیں۔نتیجہ انکی وہ جلد جو دھوپ کی عادی نہیں اس پر پڑجاتی تھیں جھائیاں داغ دھبے۔مزے کی بات جلد کے جل جانے دھوپ کا برا اثر قبول کرنے کو وہ صحت مندی ہی علامت سمجھتے تھے۔ پھر انکی جلد ہلکی دھوپ میں سرخ ، سردی میں اکڑ کر پھٹ رہی ہے تو گرمی اتنی بھی برداشت نہیں کررہی کہ گرمی محسوس ہوتے ہی جلد کا رنگ بدل گیا۔
وہاں بیس کا نظریہ متعارف کرایا گیا تھا کہ جلد کا رنگ کہیں سے کچھ کہیں سے کچھ ہوتا تھا توخواتین یکساں رنگ کرنے کیلئے استعمال کرتی تھیں بیس۔ جبھی بیس شروع میں بالکل سفید چمڑی کردیتی تھی اب جا کر پاک و ہند کی جلد کیلئے ہم آہنگ بیس بنائی جانے لگی ہے اس پر بھی غیر ملکی بیس جسے آپ خوب پیسے جھونک کے خریدتی ہیں نہ آپکی جلد کیلئے رنگ سے ہم آہنگ ہوتی ہے بلکہ لگاتے ہی چہرہ چپچپا جاتا کیونکہ جلد اپنے اوپر تہہ محسوس کرتے ہی قدرتی تیل بنانے لگتی ہے۔ نتیجہ چہرہ چمکنے لگتا۔
اب ذرا سوچیں گوری لڑکیاں جنکو Dewy جلد
چاہیئے انکی جلد اتنی خشک ہے کہ ہزار موئسچرائز لگا کر بھی دھوپ میں جانے کا رسک نہیں لے سکتیں وہیں آپ کی جلد سال کے آٹھ مہینے دھوپ چاہے نہ چاہے بھی جزب کرتی ہے۔ جو حال گوری کا آپکے ملک میں ہوتا وہ آپکی اپنی جلد کا نہیں ہوتا۔ ابھی اگر صحت کی بات کروں تو بات اور لمبی ہوجائے۔
ہوم میڈ کریمیں اور بین شدہ برانڈز کا سچ
اب ذرا دھیان دیں خود پر اپنے گرد بچیوں پر انکی جلد کو ان میں سے کیا مسلئہ ہے؟ نہ جلد کا رنگ ڈھب کھڑبہ نہ ہی جلد ضرورت سے ذیادہ نازک۔ پھر کیوں بیس استعمال کرنی ہے؟
اوپر سے ہر نئی آنے والی کریم لوشن کچھ نہیں تو فیس بکی باجیوں کی گھر کی تیار کردہ کریمیں۔یار انکے پاس کونسا پلانٹ لگا ہوا؟ جو بازار کے درجنوں کیمکلز لیکر بنا کسی تعلیم کے وہ مکس کرکے دے رہی ہیں جانے اس میں اسٹیرائڈز کتنے ہیں۔ ایک مشہور برانڈ کی سب پراڈکٹس اتنی پسند کی گئیں کہ انہوں نے برطانیہ در آمد کردیں وہاں اسٹور سے انکی حکومت نے مال اٹھوا کر بین کیا ہے اور کہا ہے اس میں اسٹیرائڈز ہیں اور نقصان دہ اجزا ہیں اور آدھا پاکستان اسے تھوپ چکا منہ پر۔
ہماری دادیوں کی جلد پر نہ دانے ہوتے تھے نہ لٹکی ہوئی جلد ہوتی تھی۔بہت بڑھاپے میں انکی جلد کا جو حال ہوتا تھا وہ میرا آپکا ابھی سے ہے۔ کیونکہ انہوں نے پھل سبزیاں گوشت کھایا ہے۔ میری آپکی طرح نخرے کرکے نہیں شکر ادا کرکے۔
سو آج سے اچھا کھانا شروع کرو بال بھی ٹھیک ہوں گے جلد بھی۔
اورپلیز
اگر کوئی بھانجی بھتیجی کزن چھوٹی بہن ہے اسے سمجھائو پچیس تیس سال کی عمر تک تو نہ مسام بلا وجہ خود کھلتے ہیں نہ ہی جلد لٹکتی ہے اگر آپ کیمیکلز سے دور رہیں تو۔
پچیس تک تو بہتر ہے صرف ناریل کا تیل لگائو اور چہرہ ٹشو سے صاف کرلو تاکہ چپچپا نہ لگے۔ بس یا ایلوویرا جیل۔کافی ہے یہ اسکن کئیر بس۔
بعد میں بھی جتنا ہوسکے کیمکلز سیرم سے دور رہو ۔جلد کا کوئی بڑا مسلئہ جب تک نہ ہو تو کوئی کریم سیرم استعمال نہ ہی کرو۔کرو بھی تو مستند ڈاکٹر کے مشورے سے۔
یہ جو سات اسٹیپ اسکن کیئر روٹین بنا رکھی ہے نا یہ پہلے جلد کو حساس کرے گی ان پراڈکٹس کا عادی کرے گی پھر جہاں آپ چھوڑدوگی استعمال کرنا جلد چیخیں مارنا شروع کرے گی اور آپکو لگے گا چونکہ فلاں کریم نہیں لگا رہی اب اسلیئے ایسا ہو رہا ہے۔
25 سال کی عمر تک کا بہترین سکن کیئر روٹین:
صرف قدرتی اجزاء: 25 سال کی عمر تک مسام خود بخود بند نہیں ہوتے اور نہ جلد لٹکتی ہے۔ اس عمر تک کیمیکلز کے بجائے صرف ناریل کا تیل (Coconut Oil) یا ایلوویرا جیل (Aloe Vera Gel) استعمال کریں۔
7-Step Skin Care Routine سے پرہیز: لمبی چوری 7 اسکن کیئر روٹینز جلد کو ان کا عادی بنا دیتی ہیں۔ جیسے ہی آپ پروڈکٹس کا استعمال چھوڑیں گی، جلد مزید خراب نظر آنے لگے گی۔
حاصلِ کلام (Conclusion)
اگر آپ کی عمر 25 سال سے کم ہے تو کیمیکلز اور سیرمز سے دور رہیں۔ اچھی اور متوازن غذا (پھل، سبزیاں، ڈرائی فروٹس) کھائیں، پانی کا استعمال زیادہ کریں اور کسی بڑے مسئلے کی صورت میں ہمیشہ مستند ڈرمیٹولوجسٹ (Skin Specialist) سے
رجوع کریں۔
