Skip to content
urdu blog, urdu blogging, urdu blogging course, urdu blogger theme free download, urdu blog adsense approval, urdu blogger, urdu blog writing, urdu blog earning, mrbeast urdu blog, alina urdu blog, elena urdu blog, bts urdu blog, safa urdu blog, urdu notebook blog, blogger from pakistan, blog pakistani, pakistani bloggers in turkey, pakistani news blogger, tayyab javed vlogs, blogging urdu, shifa daily vlogging, ramzan blogging, islamabad family vlog, bloggers in islamabad, istanbul pakistan vlog, blogger shaheen, blogger pakistan, blogging hisham sarwar, pakistani vlogger in istanbul, hooria vlog, does blogger pay you, blogger turkish, blogger kurdish, write blog on blogger, blog on pakistan, urdu vlogs germany, urdu vlog, blogger afridi, blogger masud, 100 blog posts, 300 uc, 7 series pakistan, 7 ka block, first income from blogging, 8 urdu
Menu
  • Contact Us
  • Privacy Policy
  • ہمارے بارے میں (About Us)
Menu

پاکستانی معاشرے میں عورت کے حقوق، مرد کی ذمہ داری اور اسلام کی اصل تعلیمات

Posted on July 23, 2026July 22, 2026 by admin

ٹک ٹاک پر اسکرال کرتے ایک ویڈیو میرے سامنے آئی اور مجھے اتنی تکلیف ہوئی دیکھ کر۔پاکستانی خواتین کو حق سے کم ملنے پر راضی رہنا سکھایا گیا ہے اتنا کہ وہ ایسی ایسی باتیں سہہ رہی ہیں کہ ۔۔۔

ایک خاتون تھیں خاتون کیا لڑکی ہی ہے جو یقینا اپنے گھر میں جب اچھا کھاتی پہنتی ہوگی سوچا بھی نہ ہوگا کہ آئیندہ زندگی میں سب حساب کتاب سے ملے گا۔ کہہ رہی تھی کہ اسے ٹماٹر اور دہی چاہیئے تھا اپنے میاں کو کہا کہ لا کر دے دو ۔ رات کو میاں نے لا کر نہیں دیا کہا صبح دفتر جاتے وقت لا دوں گا ۔ صبح اسے اٹھا کر کہتے ہیں کہ ٹماٹر تو ہے گھر میں فریج میں دو ٹماٹر رکھے تھے۔ اس نے کہا مجھے پتہ ہے کم ہے اور چاہیئے۔تھوڑی دیر کے بعد پھر آئے بولے دہی تو ہے گھر میں۔ فریج میں کٹوری میں تھوڑا سا رکھا تھا یہ جھلائی بولی پتہ ہے مجھے اور چاہیئے آگے ویڈیو میں بولی۔

اب سوچنے کی بات جو انسان روز کھانا پکاتا ہے اسے کیا پتہ نہیں گھر میں کیا چیز موجود ہے کیا نہیں؟ کم ہے جبھی تو اور منگوا رہی ہوں۔

پھر آگے بظاہر مزاحیہ انداز میں بولی کچھ ایسا کہ مجھے ساس سسر نند وغیرہ کی کیا ضرورت میرے میاں ہی یہ سب ہیں۔ جو چیز منگوائوں پہلے پورے گھر میں تلاش کریں گے ڈھونڈ ڈھانڈ کے جو تھوڑی بہت ملے گی اسے لا کر دیتے ہوئےکہیں گے کہ یہ رکھی تو ہے۔

میں بچپن سے رسالے بہت شوق سے پڑھتی تھی ۔ اپنی والدہ اور خالہ کو دیکھا ڈھیر ہوتا تھاانکے پاس ۔ اب مجھے یاد نہیں مگر بہت کسی پرانے رسالے میں ایک کہانی پڑھی تھی جس میں ایک لڑکی ہوتی ہے اسے چائے پینے کی عادت ہوتی ہے۔ وہ بچوں کا شوہر کا بہت خیال رکھتی تھی شوہر کو اچھے سے اچھا کھانا نکال کے دیتی تھی مگر جب وہ چائے پیتی نظر آتی تو شوہر پوچھتے بچوں کیلئے دودھ ہے یا نہیں؟ ایک بار دو بار وہ کبھی جھنجھلا جاتی کبھی دکھی ہو کر روپڑتی ۔ شوہر بھی کبھی شرمندہ ہوتے اسکے دکھی ہونے پر مگر باز نہ آتے۔ اس لڑکی کو اپنی نانی کی بات یاد آتی ہے جو کہتی تھیں بیٹا اپنے گھر میں بھی کچھ کھائو تو مرد کی طرف پیٹھ کرکے کھائو۔ مطلب میاں سے چھپ کر کھائو پیئو۔ پھر اس نے ایسا ہی کرنا شروع کردیا۔ چائے پینی ہوتی چپکے سے کسی جگہ اکیلے بیٹھ کر پیتی میاں کے سامنے چائے پینی چھوڑ دی اور عجیب بات میاں نے پوچھنا چھوڑ دیا کہ بچوں کیلئے دودھ ہے یا نہیں۔

دوہرا معیار: برانڈڈ کپڑے اور بیوی کے لیے “حالات ٹھیک نہیں

مجھے ویڈیو دیکھتے یہی افسانہ یاد آگیا۔ آپکو مماثلت محسوس ہوئی؟

آپ نے مردوں کی اکثریت کو سنا ہوگا مولویوں کے بھاشن سن سن کے انکو لگتا وہ افضل ہیں ہر لحاظ سے۔ جبکہ اصل قرآنی تعلیمات الگ ہیں۔ کیاآپ جانتے ہیں کہ اگر مرد کو جائداد میں حصہ ذیادہ دیا گیا ہے تو اس پر اپنے اہل خانہ کا ہر خرچ اٹھانے کی ذمہ داری بھی دی گئی ہے۔ صرف بیوی بچے ماں باپ نہیں بلکہ

اسلام میں نان نفقہ کا حکم (Nafqa in Islam)

Surat No 2 : سورة البقرة – Ayat No 215

یَسۡئَلُوۡنَکَ مَا ذَا یُنۡفِقُوۡنَ ۬ ؕ قُلۡ مَاۤ اَنۡفَقۡتُمۡ مِّنۡ خَیۡرٍ فَلِلۡوَالِدَیۡنِ وَ الۡاَقۡرَبِیۡنَ وَ الۡیَتٰمٰی وَ الۡمَسٰکِیۡنِ وَ ابۡنِ‌السَّبِیۡلِ ؕ وَ مَا تَفۡعَلُوۡا مِنۡ خَیۡرٍ فَاِنَّ اللّٰہَ بِہٖ عَلِیۡمٌ ﴿۲۱۵﴾

آپ سے پوچھتے ہیں کہ وہ کیا خرچ کریں؟ آپ کہہ دیجئے جو مال تم خرچ کرو وہ ماں باپ کے لئے ہے اور رشتہ داروں اور یتیموں اور مسکینوں اور مسافروں کے لئے ہے اور تم جو کچھ بھلائی کرو گے اللہ تعالٰی کو اس کا علم ہے ۔

پھر بیوی پر خرچ کرتے ہوئے اتنا سوچنا جس کا نان نفقہ آپ پر فرض ہے۔پھر کھانا وہ اپنے لیئے نہیں پکارہی احسان کر رہی ہے وہ آپ پر

جبکہ اللہ اسے یہ حق دیتا ہے کہ Surat No 65 : سورة الطلاق – Ayat No 6

اَسۡکِنُوۡہُنَّ مِنۡ حَیۡثُ سَکَنۡتُمۡ مِّنۡ وُّجۡدِکُمۡ وَ لَا تُضَآرُّوۡہُنَّ لِتُضَیِّقُوۡا عَلَیۡہِنَّ ؕ وَ اِنۡ کُنَّ اُولَاتِ حَمۡلٍ فَاَنۡفِقُوۡا عَلَیۡہِنَّ حَتّٰی یَضَعۡنَ حَمۡلَہُنَّ ۚ فَاِنۡ اَرۡضَعۡنَ لَکُمۡ فَاٰتُوۡہُنَّ اُجُوۡرَہُنَّ ۚ وَ اۡتَمِرُوۡا بَیۡنَکُمۡ بِمَعۡرُوۡفٍ ۚ وَ اِنۡ تَعَاسَرۡتُمۡ فَسَتُرۡضِعُ لَہٗۤ اُخۡرٰی ؕ﴿۶﴾

تم اپنی طاقت کے مطابق جہاں تم رہتے ہو وہاں ان ( طلاق والی ) عورتوں کو رکھو اور انہیں تنگ کرنے کے لئے تکلیف نہ پہنچاؤ اور اگر وہ حمل سے ہوں تو جب تک بچہ پیدا ہولے انہیں خرچ دیتے رہا کرو پھر اگر تمہارے کہنے سے وہی دودھ پلائیں تو تم انہیں ان کی اجرت دے دو اور باہم مناسب طور پر مشورہ کرلیا کرو اور اگر تم آپس میں کشمکش کرو تو اس کے کہنے سے کوئی اور دودھ پلائے گی ۔

اگر وہ نہ چاہے تو آپکے بچوں کو دودھ ہی نہ پلائے۔پلائے تو معاوضہ طلب کرے۔ اب اس معاوضے کی بھی بات سن لیں۔ اللہ کیا جانتا نہیں تھا کہ ماں کو اس نے دل کیسا دیا ہے کہ وہ جان پر بھی بنی ہو تو بچے کا خیال رکھے گی پھر بھی اسے پیسے سے محفوظ کیا ۔ کیا ہم نہیں جانتے اب کہ دودھ پلانے والی مائوں کو نا صرف اچھی خوراک کی ضرورت ہوتئ ہے اس پیسے سے وہ کھا پی سکتی ہے اپنی مرضی کا اپنی صحت بنا سکتی ہے بلکہ اب تو ہم جانتے ہیں کہ بچے کے بعد ماں کو اکثر ڈپریشن بھی ہوجاتا ہے۔ اللہ نے چودہ سو سال پہلے چھوٹ دے دی کہ اگر ماں پریشان ہے دودھ پلانا نہیں چاہتی تو اس ماں کو مجبور نہ کرو بچے کیلئے کہیں اور سے دودھ پلانے والی کا انتظام کردو۔

اور اب ذرا پاکستانی مردوں کا حال دیکھیں یہ سب چھوٹ دینا تو چھوڑو بیوی بچوں کے نوالے تک گنتے ہیں۔ جن پر خرچ کرنے کا تو حساب ہی نہیں ہونا۔

مادی اشیاء کی بات کرو تو اسلام صاف کہتا اپنی بیوی کیلئے وہی پسند کرو جو تم اپنے لیئے پسند کرو اور آج کل کے مرد کیا کرتے۔ اپنے لیئے مہنگے سے مہنگا فون لے رکھا ہوگا بیوی کو اپناہی پرانا جس سے دل بھر چکا ہو، خود برانڈڈ کپڑے پہنتے ہوں گے بیوی کو کہہ رکھا ہوگا حالات ٹھیک نہیں اگلے مہینے دلادوں گا، گھر کا سودا سلف لانا ہے تو سو بار سوال کر رہے ہیں یہ ہے وہ ہے یہ تو کل لایا ختم کیسے ہوگیا۔

اف یہ ویڈیو جب سے دیکھی تھی بس یہی سب ذہن میں گھوم رہا تھا کیونکہ اس ویڈیو کے نیچے جتنی بھی خواتین کمنٹ کر رہی تھیں سب کا یہی کہنا تھا انکے میاں بھی یہی کرتے۔ تو جناب انکے ، اون کے سب کے میاں

یہ جن فرائض سے آپ چشم پوشی کررہے ہیں نا اس کا حساب آپکو اوپر جا کر دینا ہی ہے چاہے یہاں جتنا آپ کالر اونچے کر لیں کہ بیوی بچوں کو قابو میں کر رکھا ہے۔

آخری بات۔ اب سمجھ آیا کہ پرانے زمانے کی خواتین نے مردوں کا داخلہ باورچی خانے میں کیوں بند کر رکھا تھا، مہینے کا سودا سلف لسٹ بنا کر پکڑاتے نہ کیا چیز کیوں کیسے ختم ہوئی بتاتی تھیں نہ ہی کسی چیز کو کم لانے پر اس کا حساب کیئے بنا چھوڑتی تھیں۔

اب سمجھ آیا کہ پرانے زمانے کے مرد گھر میں مہمان بن کے کیوں رہتے کہ کھانا بھی انہیں پیش کیا جاتا تھا ورنہ بھوکے رہتے تھے۔ کیونکہ جب مرد گھر میں اپنا پیسہ کہاں کیسے لگ رہا ہے دیکھے گا تو پوچھے گااور پھر۔۔

جواب آپ ہی دیں گی۔۔۔

Leave a Reply Cancel reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Surprise short urdu horror story|کہانی: “تین بہن بھائیوں کا سرپرائز”
Dead talent society | UNIQUE HORROR COMEDY| MUST WATCH
©2026 urduz web blog | Design: Newspaperly WordPress Theme